اب کے جو ٹوٹے تو بکھر جائیں گے

(نبیلہ اشرف)

اب کے جو ٹوٹے تو بکھر جائیں گے
زرد پتوں کی طرح راہ میں گر جائیں گے
اب کے ہوائیں تو بہت چلتی ہیں
پر لیا سانس تو مر جائیں گے
تم چہرے کو دھو لو کسی قرینے سے
پھولوں کو چھوڑو ,وہ نکھر جائیں گے
کئ دروں سے ٹھکرائے ہم بھی آئے ہیں
ان کےقدموں میں گر کے سنبھل جائیں گے
اب کے بار بھی کچھ حوصلہ مند پرندے
طوفانوں کے تسلسل سے لڑ جائیں گے

Comments are closed.