آنکھ میں خوف بھرے یہ نہیں ہونے دینا

(کرنل باصر نسیم)

غزل

آنکھ میں خوف بھرے یہ نہیں ہونے دینا
دل *کرونا* سے ڈرے یہ نہیں ہونے دینا

سینہ سینے سے پرے ہاتھ پرے ہاتھ سے ہو
روح سے روح پرے یہ نہیں ہونے دینا

دیکھنا غربت و افلاس نہ مارے شب خوں
بھوک سے کوئی مَرے یہ نہیں ہونے دینا

سب کو تلقین ہے گھر میں ہی رہیں اور اگر
حد کوئی پار کرے یہ نہیں ہونے دینا

آزمائش ہے مرے چارہ گرو خیال رہے
کوئی گھٹ گھٹ کے مَرے یہ نہیں ہونے دینا

سوزن خار سے زخمی ہوں شگفتہ کلیاں
ظلم کوئی بھی کرے یہ نہیں ہونے دینا

اے محافظ،کوئی مجبور ہو ایسا کہ یہاں
پگڑی پاوٗں میں دھرے یہ نہیں ہونے دینا

زیست کا زیست کی امید پہ
ہے دارومدار
کوئی نومید کرے یہ نہیں ہونے دینا

Comments are closed.