زندگی رکی نہیں ہے ، لاک ڈائون ہو گیا

(انیس احمد)

زندگی رکی نہیں ہے ، لاک ڈائون ہو گیا
ہجر کی گھڑی نہیں ہے ، لاک ڈائون ہو گیا
عشق ، آستان_ آب و گل سے بات کیا کرے
ابھی ہوا چلی نہیں ہے ، لاک ڈائون ہو گیا
ہر اک دکان سے چھرے چلے ہیں روزہ دار پر
کوئی بھی شے ملی نہیں ہے ، لاک ڈائون ہو گیا
وبا کا دور ہے ابھی ، خیال سے گزارنا
تیرگی ٹلی نہیں ہے ، لاک ڈائون ہو گیا
ہمارے درمیان ختم رابطہ ہوا نہیں
ابھی تو وصل بھی نہیں ہے ، لاک ڈائون ہو گیا
میں آپ ذات میں گھرا، وہ آپ خود میں قید ہے
ٹلی ستم گری نہیں ہے ، لاک ڈائون ہو گیا
انیس ایک ہے یہاں ، وہاں پہ بھی ہے دوسری
حیات تیسری نہیں ہے ، لاک ڈائون ہو گیا

Comments are closed.