اچھائی ہو کہ برائی اسی کی طاقت ہے

(یونس مجاز)
غزل
اچھائی ہو کہ برائی اسی کی طاقت ہے
وہی خدا ہے خدا ہی بس اک حقیقت ہے
رحیم توکہ تری شان ہی جو رحمت ہے
میں مغفرت کا طلب گار ہوں عذیمت ہے
سبھی درود ﷺ پڑھو وقت کی ضرورت ہے
خدا کے فضل سے ٹلتی ہے جو مصیبت ہے
بتا دیا ہے ـ’’ کرونا ‘‘ نے سب خد ا وٗں کو
بس اک خدا ہے’’ کرونا ‘‘ اسی کی قدرت ہے
خدا سے مانگو معافی گناہوں کی اپنے
’’ دعا کرو کہ د عا کی بڑی ضرورت ہے ‘‘
ملا مجاز وہی پھر جو تیری قسمت ہے
کہ لکھنے والے نے جو لکھ دیا غنیمت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کرونا
کیا خبر تھی ’’کرونا ‘‘ کے ہاتھوں
شہر کا شہر ہی بے بس ہو گا
یہ خبر تھی کسے یوں بھی خائف
اس ’’کرونا ‘‘ سے ہر نفس ہو گا
احتیا طیں ضرور کرنا پھر
سانحہ اب یہ ہر برس ہو گا
یہ ’’کرونا ‘‘ کا شاخسانہ ہے
کس نے سوچا تھا گھر گھر قفس ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل
اٹل ہے موت کسی کو مفر نہیں آیا
پڑاوٗ باقی ہے اذنِ سفر نہیں آیا
سزا ہی تو ہے ہماری بجذ ترے کعبہ
کھلا کوئی بھی یہاں گھر نظر نہیں آیا
پکارتے ہی رہے ہم بچھڑنے والوں کو
جو ایک بار گیا لوٹ کر نہیں آیا
کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا میں نے
سو داغ کوئی بھی دستار پر نہیں آیا
جہاں میں اور بہت سے خدا کے بندے ہیں
نبیﷺ کے جیسا کوئی بھی نظر نہیں آیا
کمی خلوص میں ہو گی کوئی مجاز اپنے
’’ابھی ہماری دعا میں اثر نہیں آیا‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.