حرفِ دعا

(فریحہ اختر زیرک)

مسلمانو! نہ گھبراؤ کرونا جیسی آفت سے
بچاۓ گا خدا ہم کو ہر اک ایسی صعوبت سے

یہ وقتی آزمائش ہے ذرا سا حوصلہ رکھنا
رکھو پلکوں کو نم تم ہر گھڑی لب پر دعا رکھنا

کرو شمعیں فروزاں پھر عبادت کی ریاضت کی
کٹے گی شامِ غم لو پھر گھڑی آ ئی شفاعت کی

سنو! رمضان آیا ہے پڑھو قرآں کرو سجدے
اٹھاؤ ہاتھ، حالِ دل کہو اللَّہ سے رو کے

گنہ گاروں سیہ کاروں سے گر ناراض ہو مولا
ہمیں پیارے نبیﷺ کے واسطے پھر بخش دو مولا
شہر سنسان ہیں سارے، ہر اک دیہات ویراں ہے
ہر اک کوچے میں وحشت ہے ہر اک انساں پریشاں ہے
ترے بندے کہاں جائیں؟ ہمیں ظلمت نے گھیرا ہے
کہیں وحشت کے سائے ہیں، کہیں آفت کا ڈیرا ہے
تری رحمت کے طالب ہیں بہت ناچار ہیں مولا
بہت مجبور ہیں مولا بہت لاچار ہیں مولا

شکستہ حال ہیں مولا گریباں چاک ہیں مولا
رحم کر ہم تو عاشقِ شاہِ لولاکﷺ ہیں مولا

ترے محبوب کی امت ہیں ہم سے در گزر کر دے
کہیں نومیدنہ ہو جائیں اب نظرِ کرم کر دے
حرم میں عاشقوں کی ہو وہی رونق لگی مولا
مدینے کی گلی ہو پھر مودت سے سجی مولا
تجھے مشکل کشاؑ کا واسطہ مشکل کشائی کر
سخی حسنینؑ کے صدقے مری حاجت روائی کر

شرف پھر ہو ہمیں حاصل ترے گھر کی زیارت کا
بھرم رکھ لے مرے اللہ دیوانوں کی حسرت کا

Comments are closed.