لاک ڈاؤن کے دنوں میں

(امجد بابر)

جب دنیا بدبو سے بھر گئی
معصومیت پائمال ہوکر
پاگل خانے کے دروازے پر دستک دینے لگی
شہر چڑیوں سے خالی ہوگئے
پر ندوں کی پروازیں دم توڑ گئی

آدمی کا لمس
گناہ کبیرہ کی طرح
احساس کے باطن میں اتر گیا
ہم خوف سے ماسک پہن کر
زمین پہ چیونٹیوں کی طرح رینگنے لگے
ہمارے خوابوںمیں کرونا
بے خوابی کا لباس پہن کر اڑنے لگا

لاک ڈاؤن میں
بھوک کا ذائقہ چھکنے
رشتوں سے مخلص رہتے ہوئے
کرنسی نوٹوں کی اہمیت کی اندازہ ہوا
قید تنہائی کے پراسرار لمحوںمیں
خدا سے معافی ہی
نجات کا واحد راستہ ہے
لیکن ہمیں سستی ویکسین کی تلاش ہے

Comments are closed.