کرونا وائرس لاک داؤن

(گل پرویز)

،یہ سبّت ہے

.مشقت سےتھکی ماندی زمیں آرام کرتی ہے

دفاتر ،کارخانے ،منڈیاں ،تھیٹر،معبد،سیر گاہیں،مدر سے

. آسیب کے سنسان مسکن ہیں

وہ پتھریلی گزر گاہیں جہاں انسانوں کا اور گاڑیوں کا کان بہرا کرنے والا

تیز رو سیلاب صبح و شام بہتا تھا

وہاں جنگلی کبوتر اونچی اونچی بلڈنگوں کی درزوں اور خفیہ شگافوں سے

.بلا خوف و خطر اڑ کر زمیں پہ دانے چگتےہیں

کی ہفتوں سے ویراں گلیوں میں

ہمساے جنگل سے نکل کر آ نے والے

.بارہ سنگے،کنگرو اور تیندوے آزاد پھرتے ہیں

سروں پہ شور کرتے اور دھویں کے زاویے ،قوسیں

بنانے والے طیاروں سے خالی آسمانوں میں فقط

.کونجوں، ہرے طوطو ں کی یا مرغابیوں کی شور کرتی ڈاریں اڑتی ہیں

افق میں برف کی پوشاک میں ملبوس دھندلی چوٹیاں

.پہلے سے زیادہ صاف دکھتی ہیں

.ستارے رات کی شفاف ندی میں نہاتے ہیں

گلی کی چپ

اندھیرے میں مکاں کے کونوں کھدروں میں چھپے جھینگر

.کی آوازیں سناتی ہے

،محلے سو بھی جائیں تو مکان کلکاریوں سے

.قہقہوں سے جاگے رہتے ہیں

مکانوں کے جھروکوں سے ، چھتوں سے

ہاتھوں کے لہراتے پرچم دیکھ کر

گلیوں میں پھرتی موت کی افواج کے ہارے ہوۓ دستے

.بھی پسپا ہونے لگتے ہیں

سویرے دھوپ اجلے ہاتھوں سے

کھڑکی پہ دستک دے کے واپس لوٹ جاتی ہے

مگر گھر کے مکیں سوۓ محل کے رہنے والوں کی طرح

شہزادے کی آمد پہ یا نرسنگے کی آواز سے

بیدار ہوں شاید

کہ اب ہندسے بدلتی، زور سے گھنٹی بجا کر

سونے والوں کو جگانے والی گھڑیوں کے بجاۓ

.چاند سورج کے چمکتے ڈائل ہی گھڑیال ہیں انکے

بڑےدالان والے ڈائنگ ٹیبل پہ

،کیرم بورڈ ،کمپیوٹر ،رسالے، پیشگوئیوں کی کتابیں ،بوتلیں

. گلدان بےترتیب رکھے ھیں

کی ہفتوں سے بچوں کے جو یونیفارم الماری میں رکھے تھے

.وہ چوہوں نے کتر ڈالے

. صحن کےشڈنما گیراج میں ابّا کی گاڑی کتنےہی دن سے اکیلی ہے

غباروگرد سےلتھڑی ہوئی سیٹوں پہ، اسٹیرنگ

.پہ مکڑے جالےبنتے ہیں

سیہ پچکے ہوے پہیوں کے نیچے

سرخ اینٹوں کے شکستہ فرش کی درزوں میں

. جنگلی گھاس اگتی ہے

صحن کی راہداری میں اگے بادام اور چیری کے پیڑوں پر

زمستاں ختم ہوتے ھی

،جو اجلے پھول مہکے تھے

. وہ کچے پھل کی صورت ٹہنیوں پہ لہلہاتےہیں

اور اب انجیر کی لچکیلی سی شاخوں پہ پھوٹی کونپلیں

. گرمی کے آنےوالے موسم کا اشارہ ھیں

Comments are closed.