تب تم کیا کروگی

(حمیرہ نور)

عجیب

حالت ھے

،انسان کے اندر کی

بھار کی طرح

!!کھل بھی نہیں سکتے

اور خزاں میں

پیلے ھو کر بھی

!!جھڑ بھی نہیں سکتے

عجب کشمکش میں

مبتلا ھو گٸے ھیں ھم

سامنے

محبت کھڑی ھے

مگر

محبت کو محبت

!!کر بھی نہیں سکتے

ھر پل

اک خوف طاری ھے

کہ

!!……تجھے چھو لیا

!!…….اُسے چھو لیا

!!……..کچھ چھو لیا

تو وہ

مجھے چھو لےگی

اور پہر

چھو لینے کے بعد کا خوف

کہ

،موت کا پروانہ

،زندگی میں لذتِ زندگی کو چھوڑنا

،گھر میں گھر سے جداٸی

،گھر کے اندر گھر والوں سے دوری

تو بہت بھیانک ھے

تو نظر نہیں آتی

مگر میں

اور میرے جیسے لاکھوں

تیری کڑی نظر میں ھیں

اور تیری دھشت بھری اک نظر نے

چین و اٹلی کی وادیوں میں

جو مکیں تھے

جو خزاں کی پیلاھٹ میں پیلے نا ھوسکے

وہ رنگین بھاروں میں

عمر بھر کے لیے

اپنے پیاروں سے جدا ھوگٸے

پہر ان کو ان کے

،اپنونے چھا بھی نہیں

،پکارا بھی نہیں

،زمیں میں اتارا بھی نہیں

اور جو بچ گٸے ھیں

ان میں سے کچھ

قرنطینہ میں بچنے اور نا بچنے کی

،سانسیں گن رھے ھیں

اور جو اپنے گھروں میں

قید میں ھیں

اور کتنا عجیب ھے کہ

گھر کے سارے قیدی

ایک دوسرے کے لیے جی رھے ھیں

.،مگر فاصلوں میں

اے کرونا

تو نے ھماری روایات کا بھی

دم توڑ دیا ھے

گلے لگانے

ھاتھ ملانے سے

ھماری نسلوں کی پہچان ھوتی ھے

،،،!!!تو نے ھماری پہچان پر بھی وار کیا ھے

،چلو ٹھیک ھے

مگر سنو

مجھے زندھ رھنا ھے

،اپنے لٸے

،اپنوں کے لٸے

،دھرتی کے لٸے

،دھرتی والوں کے لٸے

،نسلوں کے لٸے

،محبتوں کے لٸے

…..محبتی افسانوں کے لٸے

یاد رکھنا اے کرونا

میں تیری وجہ سے

اپنے محبوب کو چھو نہیں سکتی

مگر برسوں بعد

صدیوں تلک

،میرے محبتی افسانوں کو

،احساسوں کو

،الفاظوں کو

دنیا چھو ے گی

تب تم کیا کروگی؟؟؟

Comments are closed.