نئے سفر کا سنگ بنیاد

(امجد بابر)

زندگی
بے بسی کے دائرے میں
صبح کی سرشاری سے بے نیاز
رات کے چراغوںکی نگہبانی میں
آسمانی ستاروںکے جھرمٹ میں قید ہے
پھولوںکی خوش بو
ہوا کے در و بست میں
گم شدہ آسمانوںکا نوحہ بن کر
زمین کے گلی کوچوںمیں پھیل گئی
اب پرندوں کی صدائیں
گونگی صدیوںکا منظوم قصہ بن کر اڑتی ہیں
چاروں اطراف
نجات کی تسبیح اور مناجات کی بھاپ سے بھر گئے
عقل حیرت کدے میں گم
نئے راستوںکی جاسوسی کررہی ہے
شہر میں اذانوںکی حکمرانی ہے
انسانیت اک نئے سفر کا سنگ بنیاد رکھ چکی ہے

یہ کک رررووو ن ن اا کیا ہے؟
خدا اپنی تخلیق سے مایوس
فرشتوںکے درمیان سلطنت کے تخت پر
بادلوںسے الوادعی خطاب کررہا ہے
معافی کے تابوت جلادیے گئے
مقدس عبادت گاہوںکو کس نے بند کروایا؟؟
شاید گھروںکی تنہائی کا احساس
ہمیں جانور سے انسان بنادے
اس سے پہلے کہ
دیر ہوجائے
اور کرونا ہمارے بیڈ روم میں آگھسے
اور ہمارے گھروںکو قبرستان تصور کرلیا جائے

Comments are closed.