گیلری میں کھڑا ہوا ہوں میں

(محمد علی منظر)

غزل
گیلری میں کھڑا ہوا ہوں میں
گویا سب سے لڑا ہوا ہوں میں

اتنا خاموش اس قدر تنہا
گھرمیں کب سے پڑا ہوا ہوں میں

کیوں مجھے اجنبی سی لگتی ہے
جس گلی میں بڑا ہوا ہوں میں

کوئی سنتا نہیں ہے جب مری
بات پر کیوں اڑا ہوا ہوں میں

جگمگاتا ہے آسماں مجھ میں
چاند تارے جڑا ہوا ہوں میں

گھورتا ہے گلی کا سناٹا
کتنا سہما کھڑا ہوا ہوں میں

Comments are closed.