محفل میں آج تذکرہ پھر سے وفا کا تھا

(شگفتہ شفیق)

غزل

محفل میں آج تذکرہ پھر سے وفا کا تھا
اب دیکھنا ہے حوصلہ کس میں جفا کا تھا

ایسا عجیب وقت تھا دہشت تھی ہر طرف
ہر اک دل پہ خوف جو چھایا وبا کا تھا

محفوظ اپنے گھر میں بیٹھے تھے یا ر لوگ
پھر بھی کئی کو وہم کرونا وبا کا تھا

سیدھا جو راستہ چنا میں نے عمر بھر
دل میں تو میرے خوف خداکی رضا کا تھا

کچھ دن جو ساتھ میرے وہ پیار سے رہا
اُس میں کمال سارا شگفتہ وبا کا تھا

Comments are closed.