چراغو ! حوصلہ رکھنا ہوائیں ہار جائیں گی

(بشارت گِل)

سلام
چراغو ! حوصلہ رکھنا ہوائیں ہار جائیں گی

سلام اُن کو جو مُشکل حال میں خدمات دیتے ہیں
سلام اُن کو مخالف وقت کو جو مات دیتے ہیں
سلام اُن کو جو بنتے ہیں سہارہ بے سہاروں کا
سلام اُن کو لرزنے والوں کو جو ہات دیتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلام اُن کو کہ جو دن رات لڑتے ہیں وباؤں سے
جو ہو کر لیس اپنے اماں بابا کی دعاؤں سے
الجھ پڑتے ہیں پھر جو موذی و مہلک ہواؤں سے
سلام اُن کو جفا کو جو ہراتے ہیں وفاؤں سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلام اُن کو بھی جن کے ہیں سبھی یہ بیٹیاں بیٹے
ڈٹے ہیں جو قیامت کی گھڑی میں موت کے آگے
اجل جیسے نہیں دِکھتی کرونا بھی نہیں دِکھتا
سلام اُن کو جو نا دِکھتے ہوئے دشمن سے نا بھاگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزائم جیت جائیں گے وبائیں ہار جائیں گی
یقیں محکم کے آگے سب بلائیں ہار جائیں گی
کرونا جیسے جرثومے بہت دیکھے ہیں ماضی میں
چراغو ! حوصلہ رکھنا ہوائیں ہار جائیں گی
بشارت گِل

Comments are closed.