یہ وبا دنیا میں کیوں آئی ہے

(رئیس مہربان الٰہی حنفی)

نظم ( کورونا)
عالمہ و با کو بائی ، سور دوسی دونور
دنیو سف رویان بچین، آزمایئش جو شور
ارادہ مظبوط کی اوشوئی، ہیش کیہ بین نو بوئی
تان مزمو ہمتو سورا، یہ گو غومارور
تن دوری ارام کو ریک ، ضروری بیرائے
اژیلیان سوم دورو رویان ، خیالو ساتور
کورونا چوکک لھازی، احتیاط کورو
تان ہوستان سفا نیگور، اپکان بیڑور
احتیاط عافیت راردو، نستو شیلی روئی
بیری نسی ڈال بیتی ، انگار مو کوسور
کو ریک مدد ایغو سوم، انسانو خصلت
بغض اوچے کینہان ، تھے دی ہر دیار نیرور
تن بطھنو سم محبت ، ہر دیار کو شیر
ہر ای حکمو حکو متو، پھیک بیتی ما نور
تو بہ کو رور ، نیمژ کو رور استعفار کورور
اللہ رحیم ، االلہو سار معافی مشکور
شاوار شاو دو یری کورار ، اللہ یہ وبو
ہوست اوسنے اللہو پروشٹہ صف دعا کوور
تن دیکی واژین دیتی سور دیتی کیڑور
ازمائش خدا یو وشکیار کو س کیہ وسہ شیر
اللہ مہربان بو ئے یہ وخت دہ شخسور

کرونا کے حوالے سے چترالی زبان میں نظم اور اس کا اردو ترجمہ
یہ وبا دنیا میں کیوں آئی ہے اس کے بارے میں غورو فکر کی ضرورت ہے یہ وبا اہل دنیا کے لئے ایک آزمائش ہے اور اسی نظر سے اسکو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ارادہ مضبوط اور مستحکم ہو تو یہ نقصان د ہ نہیں اور انسان کو عزم معمم اور مضبوط قوت ارادی کیساتھ اس وائرس کیساتھ نبردازما ہو نا چا ہیئے۔اس وبائی دورانیے میں ہر ایک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے گھر میں ہی قرار پکڑے اور اپنے گھر والوں سے تجاہل عارفانہ سے کام لیکر غافل نہیں رہنا چاہیئے۔ یہ کرونا ایک متعدی مرض ہے اور اس حوالے سے احتیاط وقت اور حالات کا تقاضا ہے ۔ احتیاطی تدابیر پہ عمل کرتے ہو ئے ہاتھوں کی صفائی اور منہ پر ماسک چڑھانے کا اہتمام کرنا چا ہیئے۔ پرانے زمانے کے تجربہ کار اور دیدہ و شنیدہ لو گوں کے اس زرین مقولے کو پلے باندھنا چاہیئے کہ احتیاط ہی میں انسان کے لئے عافیت ہے۔ لہذا ٹو لیوں کی صورت میں بلا ضرورت گھوم پھرنے سے پر ہیز ہی بہتر ہے۔ایک دوسرے کے کام آنا اور مدد کرنا انسانی سر شت میں داخل ہے بنا برین بغض اور حسد جیسے روحانی بیماروں سے دل کی دنیا کو صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر تمہیںپاک سر زمین سے دلی تعلق اور محبت ہے تو چاہییے جی حکمرانان وقت کی ہدایات پر بلا چون و چرا عمل پیرا رہیں اور ساتھ ہی تو بہ و استعفار کی کثرت اور نمازوں کا اہتمام کریں ۔ سب کو چاہیئے کہ وہ دست عاجزی پھیلا کر رب کے حضور دعا کریں کہ خالق کائنات اس وبائی مر ض سے ہمیں نجات عطا کرے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں ہوتا اور دوسروں کے لئے کنواں کھودنے والا خود ہی اس کا شکار ہو تا ہے اور آج دنیا میں وہی لوگ اس وبا کا س سے زیادہ شکار ہیں جو اپنے آپ کو زمینی خدا کا درجہ دیا کر تے تھے اور اب اپنے ہی ہاتھوں بری طرح پھنس چکے ہیں۔
بحر حال: یہ ایک ازمائش ہے اسکے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لے رہا ہے۔ اب اسکو دور کرنا اور اسے بچنا انسان کے بس میں نہیں ۔ اگر اللہ چاہیں اور انکی مہربانی سے یہ دن جلد ہی گزر جا ئیں اور انسانیت کو نجات ملے گی۔
فقط: مہربان الٰہی حنفیؔ

Comments are closed.