یہ کب کہا روحِ اسبابِ جاں یہ میرا ہے

(پروین سجل)

حمد…نعت … دعا…منقبت
یہ کب کہا روحِ اسبابِ جاں یہ میرا ہے
کہ عین حق ہے سبھی کُلُّھُم￿ ہی تیرا ہے

یقیں ہے مجھ کو مرا امتحاں ہے تنبیہاً
علامتی ہے اندھیرا یہ ہی سویرا ہے

درُود بھیجتے رہیے، سلام بھیجتے رہیے
بلائے جاں میں وبا کا یہ سخت گھیرا ہے

اُٹھا کے نقش جو نعلین ماتھے پر پھیرے
متاعِ جاں کو یہ لطف و کرم بتھیرا ہے

عرض گزارشیں مشکل کشائی خاطر کو
دعائے کوزہ میں تعویذِ اسم پھیرا ہے

بحال کر دے تُو پھر رحمتیں کثیر اپنی
طفیلِ انبیاء جو جو بھی اور تیرا ہے

طوافِ کعبہ ہے اپنی جگہ مگر اے سجلؔ
کہ ماں کے ہاتھ کی تسبیح میرا پھیرا ہے
—————–

نظم… بلائے جاں

عجب ہی کر ب و بلا ہے بلائے جاں دیکھو!
کہ وقتِ حشر اُٹھا ہے بلائے جاں دیکھو!
یہ کیا کہ رونقِ دنیا عُجب عجب ٹھہری
ہمارے حال کی خُو اور چھب عجب ٹھہری
دکھائی دے نہ کوئی حیلہ اور وسیلہ سجلؔ
کہ بے یقینی بلائے سبب عجب ٹھہری
عجب ہی کر ب و بلا ہے بلائے جاں دیکھو!
کہ وقتِ حشر اُٹھا ہے بلائے جاں دیکھو!

کہ شہر سارے کا سارا ہے خوف سے دُبکا
پڑا ہے کوزہ دعا بھی منڈیر پر اُلٹا
رسائے دعوہٰ سے ہر کوئی ہاتھ چھوڑے سجلؔ
مقامِ حالتِ جاں کیسے ہاتھ سے نکلا
عجب ہی کر ب و بلا ہے بلائے جاں دیکھو!
کہ وقتِ حشر اُٹھا ہے بلائے جاں دیکھو!

کہ ظاہری درِ اسباب سب معطل ہیں
عجب کہ لات و ہُبل اور خموش ہیکل ہیں
جبینِ صحن پہ سجدے سجلؔ چراغ مگر
درِ مدینہ و کعبہ سبھی مقفّل ہیں
عجب ہی کر ب و بلا ہے بلائے جاں دیکھو!
کہ وقتِ حشر اُٹھا ہے بلائے جاں دیکھو!

کہ منتظر ہیں نگاہیں عجب ہے بے تابی
نہ کوئی موسیٰؑ و عیسیٰؑ نہ سعدیؒ و رومیؒ
زمانہ ظاہر و باطن سجلؔ بے حال ہوا
مدر ٹریسہ کی صورت نہ صورتِ ایدھیؒ
عجب ہی کر ب و بلا ہے بلائے جاں دیکھو!
کہ وقتِ حشر اُٹھا ہے بلائے جاں دیکھو!

فسونِ سحر نہ منظر رہا قرار آور
ہمارے خواب کرونا کیے شکار آور
بہارِ نو کے سبھی منتظر سجلؔ ٹھہرے
دلوں کی شاخیں نئے بُور سے ہوں بار آور
عجب ہی کر ب و بلا ہے بلائے جاں دیکھو!
کہ وقتِ حشر اُٹھا ہے بلائے جاں دیکھو!

کہ پھلتی پھولتی نسلوں کی آبیاری ہو
دعائے دل ہے مکینوں کی آبیاری ہو
خیالِ دوست میں آباد جاں رہے جو سجلؔ
کہ تخمِ رتجگے ، خوابوں کی آبیاری ہو
عجب ہی کر ب و بلا ہے بلائے جاں دیکھو!
کہ وقتِ حشر اُٹھا ہے بلائے جاں دیکھو!

رحیمِ جان تَعٰالیٰ خدائے اِستغنا
نہنگِ فتنہ قرنطینہ خوف سے تُو بچا
کہ حام ؔ،سام ؔہوں یافث کی نسلیں گُل رو سجلؔ
نظامِ ہستی کے مالک تُو مژدہ بیم و رجا
عجب ہی کر ب و بلا ہے بلائے جاں دیکھو!
کہ وقتِ حشر اُٹھا ہے بلائے جاں دیکھو!

Comments are closed.