شہر کے حالات کو ہلکا نہ لے

(جنیدآزر)

شہر کے حالات کو ہلکا نہ لے ۔۔
دیکھ میری بات کو ہلکا نہ لے ۔۔

اب محافظ ہیں سماجی دوریاں
فاصلوں کی گھات کو ہلکا نہ لے

مشورہ سن لے طبیبِ وقت کا
طبی تشریحات کو ہلکا نہ لے

خاک کر دے گی وبائی زندگی
موت کے خدشات کو ہلکا نہ لے

چھوڑ کچھ دن شام کی آوارگی
اپنے معمولات کو ہلکا نہ لے

احتیاطا” دوستوں سے بھی نہ مل
دوستوں کی ذات کو ہلکا نہ لے

ان میں سچے بھی تو ہو سکتے ہیں کچھ
سارے اعلانات کو ہلکا نہ لے

اندر اندر گھل کے رہ جائیں گے ہم
ہجر کے دن رات کو ہلکا نہ لے

دیکھنا ہلکان کر دیں گے ہمیں
عشق کے صدمات کو ہلکا نہ لے

خیر خواہی کے علاوہ بھی ہے کچھ
تو مرے جذبات کو ہلکا نہ لے ۔

رکھ عزیزم! حسن پر گہری نظر
عشق کے شبہات کو ہلکا نہ لے

Comments are closed.