پکے پھل ٹپکتے ہیں

(فیروز ناطق خسرو)

مرے مالک!
تری دنیا میں کتنے رنگ بکھرے ہیں!
چمن میں پھول کھل کر
ذہن کی ساری تھکن کو دور کرتے ہیں
تو باغوں میں رسیلے پھل ہمارا دل لبھاتے ہیں!
کہیں فرشِ زمیں پر
انگنت اشیائے خورد و نوش کی کثرت سے،
احساسِ تشکر سے!
مری اس چشمِ حیراں میں نمی سی تیر جاتی ہے!
اِدھر آلودگی کے بوجھ سے
بوجھل فضاؤں میں بھی صحت بخش
فصلیں لہلہاتی ہیں!

مرے مالک !
اُدھر اِن نعمتوؔں سے جگمگاتی تیری دنیا میں
وبا کیسی یہ پھیلی ہے!
کہ جس کی زد میں آکر یہ رسیلے پھل
فنا کی گود بھرتے ہیں!
زمیں جو کل تلک سونا اگلتی تھی
چٹختی ہے، تڑپتی ہے!
فضائے زہر آلودہ کے بیچوں بیچ پژمردہ گلوں کی
رنگ برنگی پتیاں بھی چُرمُراتی ہیں!
رسیلے پھل جو اپنی اک الگ پہچان رکھتے تھے!
وہ اپنی آج یہ پہچان کھوبیٹھے
خود اپنے ہوش بھی انسان کھوبیٹھے!

دُہائی ہے، دُہائی ہے!

وہی انسان اے مالک!
کہ تونے جس کی خاطر
یہ حسیں جنت سجائی تھی!
وہی انسان جس کو اشرف المخلوق کا
تونے لقب بخشا!
وہی انسان “کورونا وبا” کی تیز آندھی میں
بَلا تخصیص مرتے ہیں!
کہ جیسے
پیڑ کی شاخوں سے پکے پھل ٹپکتے ہیں!!

Comments are closed.