لاک ڈاؤن مسلسل

(نثار احمد)

اپنوں کو خود سے دُور ہٹانے سے مَیں رہا
آپس کے فاصلوں کو بڑھانے سے مَیں رہا

یہ کس طرح کی رسمِ جدائی ہے چل پڑی
اک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے مَیں رہا

ماسک نہیں تو چہرے پہ تہمت ہی کوئی باندھ
یوں بےسبب تو چہرہ چھپانے سے مَیں رہا

بدبخت و ناسپاس کرونا کے واسطے
سَو بار ہاتھ دھونے، نہانے سے مَیں رہا

چھُپتا نہیں ہے کرب، تبسّم کی اوٹ میں
اس دَور میں تو ہنسنے ہنسانے سے مَیں رہا

ہے کس طرح کی موت یہ پیارے بھی جو مریں
ہاتھوں سے اپنے لاش دبانے سے مَیں رہا

گھڑیاں تو چل رہی ہیں، ہے وقت تھم چُکا
ٹھہرے ہوئے معلّق زمانے سے مَیں رہا

یوں پھر رہا ہوں ہاتھ پہ دستانے پہن کر
قسمت کا بھی تو حال دکھانے سے مَیں رہا

حالات ہی نکالیں گے اب کوئی راستہ
تالے ہیں در پہ باہر تو آنے سے میں رہا

کر کوئی تو سبیل میرے روزگار کی
باتوں سے اپنی بھوک مٹانے سے مَیں رہا

اَے کاش جان جائے وہ حالت نثار کی
اب روز روز نظمیں سنانے سے مَیں رہا

Comments are closed.