اک نئی دنیا کا ہو گا سماں دیکھنا

(ڈاکٹر پرویز اقبال)

اک نئی دنیا کا ہو گا سماں دیکھنا
زیست کا ہو گا پہیہ رواں دیکھنا
غرورتو خاک میں ملا دیا کورونا نے
اوقات میں آجائیں گے انساں دیکھنا
حوصلہ نہیں ھارنا، فاصلہ ضرور رکھنا
راہ عدم لے گا یہ وبال جاں دیکھنا
احتیاط جو کر لی قوم نے مل کر
نو دو گیارہ ہو گا یہ بےجاں دیکھنا
سوچ بدل جائے گی اور رویے بھی
نئے رنگ میں ہوں گے انساں دیکھنا
پہن کر ماسک دستانے، رکھ لو دوریاں
بہت جلد ملیں گے عزیزان جاں دیکھنا
جذبہء خدمت سے ہیں سرشار مسیحا
گن گاتا رہے گا سارا پاکستان دیکھنا
گر ہو عزم، حوصلہ اورہمت جواں
مٹ جائے گا جرثومے کا نشان دیکھنا
چلا تھا جو موزی کورونا ووھان سے
کرے گا اسے ختم، خدا مہربان دیکھنا

Comments are closed.