عمران خان

(جاوید حیدر ترمذی)
جو قوم کا وقار ہےدھرتی کا مان ہے
وہ مرد اہنی ہی تو عمران خان ہے
ہے مشکلوں کا آج حکومت کو سامنا
لیکن یہ شخص عزم و عمل کی چٹان ہے
جس طور ہو رہا ہے علاءیق کا خاتمہ
ان کاوشوں پہ ہم کو بڑا اطمنان ہے
جاری ہے ظلمتوں میں اجالوں کا یہ سفر
اس مملکت پہ اس کی جہاں تک کمان ہے
مالک در حبیب ص کے صدقہ میں ٹال دے
صورت وبا کی یہ جو کڑا امتحان ہے
حاسد حسد کی آگ میں جاوید جل مریں
عمران تو ہی فتح و ظفر کا نشان ہے

Comments are closed.