کرونا کا یہ موسم ہے

(ندیم عباس اشرف)
محبت میں یہ لازم ہے
ذرا اب فاصلہ رکھنا
کرونا کا یہ موسم ہے
نہ اب وہ رابطہ رکھنا
کہاںوہ دلبری ہو گی
بس اب تو مخبری ہو گی
کرونا سرد موسم کا
سراسر بے رخی ہو گی
میری جاں دور ہوں بے شک
بڑا مجبور ہوں بے شک
گئے وہ وصل کے موسم
غموں سے چور ہوں بے شک
تری یادوں کی بانہوں میں
میںبانہیںڈال دیتا ہوں
گئے وقتوں کی پرچھائی میں
خود کو ڈھال دیتا ہوں
کرونا ہے قریب اپنے
نہیں ہوتے رقیب اپنے
بس اب تو ہاتھ دھو بیٹھو
یہی ہیں اب نصیب اپنے

———–
لمحہ ئِ امتحان
کرونا خوف و دہشت کی علامت بن کے آیا ہے
یہ لمحہ امتحان کا ہے قیامت بن کے آیا ہے
عزیزو ،ہمت پہیم سے ہم کو کام لینا ہے
اگرچہ ہر طرح ہم تک بھیانک بن کے آیا ہے
شکت فاش ہم دیں گے کرونا کو پلاننگ سے
صفائی حکم ِ ربی ہے ہدایت بن کے آیا ہے
کریں اپنی توجہ اپنے اللہ کی طرف ہمدم
خدا قادر ہے ہر شے پر صداقت بن کے آیا ہے
ندیم اپنے عقیدے پر نجات اپنی کا محور ہے
دوا ہر مرض کی ہونا شہادت بن کے آیا ہے

————–
مناجات
ھو الشافی شفائیں بانٹا ہے اپنے بندوں میں
وہ اپنا خیر و برکت کا اجالا بھیجنے والا
وہ تاریکی میں، مایوسی میں
امیدوں کی ضو روشن
اسی کے فیض سے ارض و سما
کی رونقیں برپا
کرونا ہو یا ڈینگی ہو
بلائوں کو،وبائوں کو
وہی ہے ٹالنے والا
بہت کمزور ہم بندے ، بہت رحمان ہے مولا
وہ اپنی خاص رحمت سے
حبیب ِ پاک کی امت کو
مایوسی، پریشانی کے اندیشوں میں
صبح باریابی دے
ہماری ان دعائوں کو
ہماری التجائوں کو
کرونا وائرس کی اس تباہی کو
بلائوں کو وبائوں کو
ہماری ابتلائوں کو
خصوصی خیرو برکت سے
کرم کا سلسلہ بخشے
سکو ںپھر سے میسر ہو
جہاں میں شادمانی ہو
عطا کرنا ہے کام اس کا
خطاکاری روش میری

Comments are closed.