التماس

(ناصر عدیم)

پلٹ جائو
مری جاں میں
قرنطینہ میںبیٹھا ہوں
تری سیماب فطرت گو بڑی بے چین رہتی ہے
مجھے سب یاد ہیں وہ ریشمی وعدے
کہستانِ نمک کی وادیوں میں جو
شتاء کے الوداع ہوتے
سروں پر تان کر ابرِ بہاراں کی سیہ چادر
سرِ سبزہ
برستی بارشوں کی چہل قدمی میں
کبھی سر زد ہوئے ہم سے
کہا تھا جو
بکھرتی سانس تک اک دوسرے کو ہم نہ چھوڑیں گے
بھُلا ڈالو
کہ میں پیماں شکن پچھلے کئی دن سے
وہ سب وعدے
شکستہ کر کے بیٹھا ہوں
مری اے ہم نفس اب میں
تعلق باہمی سانسوں کا اِیفا کر نہیں سکتا
کرونا وائرس سے ہے مری ہر سانس آلُودہ
سُنائی دے رہا اب بکھرتی سانس کا سرگم
مرے چاروں طرف جتنی کرونائی فضائیں ہیں
تمھیں یہ سونپ دُوں کیسے
اِسی خاطر کئی دن سے
میں اپنے گھر کا دروازہ مقفّل کر کے بیٹھا ہوں
پلٹ جائو
مری جاں میں
اگر اس جان لیوا وائرس سے بچ گیا
تو پھر
شکستہ عہد کی تجدید کر نے کے لیے
پھر سے
کہستانِ نمک مخملی وادی میں آئوں گا
————
خود اسیری
کئی دنوں سے
اکیلے پن کے
محاصرے میں گھرا ہوا ہوں
اداسیوں کی پہاڑ راتیں،مفارقت کے طویل دن ہیں
ہر اک گھڑی ہے کہ اک صدی ہے
گزارتا ہوں کہ خود گزرتا میں جا رہا ہوں
یہ گھر ہے کوئی کہ ایک شہرِ سکوت جس میں
ہر ایک دیوار و درسے وحشت ٹپک رہی ہے
تری صدا کی وہ دل نشینی
وہ شہد لہجہ
طویل صدیوں کی خامشی کے
سمندروں میں اتر گیا ہے
گلاب جیسے حسین چہروں پہ ماسکوں کے نقاب طاری
وہ بے رخی ہے
کہ منہ چھپائے سماج سارا
سماجی دوری کے فاصلوں پہ کھڑا ہوا ہے
گلے لگانا بھی مختتم ہے
مصافحہ پر بھی امتناعی پیام کب سے ملا ہوا ہے
میں اپنے گھر میں یوں رہ رہا ہوں کہ جیسے زندان میں پڑا ہوں
وہ سُونا پن ہے
ہر ایک گوشہ،ہر ایک کونہ اجاڑ بن ہے
مری صدا بھی صدا بہ صحرا
تمھارا نغمہ بھی رائیگاں ہے
ہر اک سڑک پر، ہر اک گلی میں
لگے ہیں پہرے
ہر ایک کوچے میں شور برپا
ہر اک گلی میں یہی منادی
جسے اماں ہو عزیز اپنی
جسے تحفظ کی آرزو ہو
وہ گھر پہ ٹھہرے
چلو کہ اپنی اماں کی خاطر
برائے عالم برائے ہستی
ہم اپنے اپنے گھروں میں خود کو
اسیر کر لیں

Comments are closed.