جب یہاں راہ بر ، خود بخود رک گیا

(شوکت محمود شوکت)
جب یہاں راہ بر ، خود بخود رک گیا
زندگی کا سفر ، خود بخود رک گیا

حکم جاری ہوا ، گھر کے اندر رہو
ہر کوئی اپنے گھر ، خود بخود رک گیا

حسنِ بے مثل گرچہ بلاتا رہا
عشقِ خود سر مگر ، خود بخود رک گیا

گردشِ خوں بھی جیسے ہوئی منجمد
دل ہو وہ یا جگر خود بخود رک گیا

خوف ایسا ہے سب قہقہے چپ ہوئے
بولتا ، اک نڈر خود بخود رک گیا

کر گئی ہے اثر یوں زمیں کی کشش
میں ادھر ، وہ اُدھر خود بخود رک گیا

نکہتِ گُل ، درونِ گلستاں ہے بند
بار آور شجر ، خود بخود رک گیا

بارہا یوں ہوا سوئے شمس و قمر
بڑھتے بڑھتے بشر ، خود بخود رک گیا

شوکتِ خستہ ! کیا خواہشِ وصل ہو
ہجر پل ،عمر بھر ، خود بخود رک گیا

Comments are closed.