کس خوف نے کر لیا بسیرا

(واصف سجاد)

کس خوف نے کر لیا بسیرا
دن میں بھی جو ہوگیا اندھیرا
ملنے سے ہوۓ سبھی گریزاں
یہ کیسی بلا نے ہم کو گھیرا
کیوں بیت نہیں رہی شبِ غم
ہوتا نہیں کیوں بھلا سویرا
دہشت سے بھری ہوئی فضا میں
دل کیسے سکون پاۓ میرا
امید کی مشعلیں ہیں روشن
لہراۓ یقین کا پھریرا
بخشی ہمیں جس نے زندگانی
کافور کرے گا غم گھنیرا
بھر جائیں گی رونقوں سے گلیاں
ہوگا یہاں چاہتوں کا ڈیرا

Comments are closed.