کرونا اک کہرام

(راس مسعود رافع)

کرونا اک کہرام
مشرق سے جو اٹھا تھا غبار وہ
کرہ ارض پر پھيل رھا ھے بن کے زکام اور بخار وہ
اک نيم جان ہستئ نے مچایا ہے کہرام وہ
کہ اشرف المخلوقات جو خود کو سمجھتا تھا
بے بس ھوا اور لاچار وہ
اک خلۓ سےکم کی ہستی نے
جسم انسانی پہ حکمرانی کر لی
جو اپنی افزایش نسل سے بھی قاصر تھا
جسم انسانی سے نسل اپنی بڑھوا رھا ھے وہ

حضرت انسان نے ويسے توبہت ترقی کرلی
خود کو کاينات کا مالک سمجھنے لگا وہ
ذمین کے خزانوں کو لوٹ کر وہ
نظام قدرت کو تیغ بالا کر کے یہ نہ سمجھا کہ
جس شاخ پہ وہ بیثھا ہے
اسی شاخ کو کاٹ رھا ھے وہ
اوزون کی پٹی میں چھید کر دیے اس نے
اور دولت کی لالچ میں کاربن ڈایکسایڈ پھیلانے لگا
ھوا پانی اور زمین میں ہر طرف گند گی پھیلانے لگا
غرور اپنی طاقت کا کرنے لگا وہ

سب سے طاقتور ملک کے صدر نے کہا کہ میں
دنوں میں افغانستان کو تباہ کرسکتا ہوں
افغانوں کو برباد کر سکتا ہوں
اس نے سمجھا کہ کرونا کیا چیز ہے میرے اگے
اور کہا میں ماسک ہر گز نہ پہنوں گا
اس کی بیوی نے کہا یہ ضروری ہے عقل کا تقاضا ہے
ایک ہی ماہ میں کرونا نے
اڑا دیے ہوش اس کے
اب کبھی چین کو کبھی ڈبلیو ایچ او کو دوش دیتا ہے وہ

ایسی مشکل کی اس گھڑی میں اب
نکلے ھیں طبیب ، نرسیں، اورعملہ بھی ہسپتالوں کا
نسل انسانی کی بقا کے لیے
اپنی جانوں کی پرواہ نہ کیے

اب اس عذاب الاہی کے ختم ہونے تک
دعا ہے کہ انسان اپنے کیے پہ
پشیمان ہو اور سجھ جاے کہ
کاینات کا مالک نہیں ہے وہ
اور کرونا کے عذاب سے سبق سیکھے
خالق حقیقی کی رحمت کی اب دعا مانگے اور
قدرت کے کارخانے میں حیثیت اپنی پہچان لے وہ
ہوا، پانی، زمین، چرند و پرند سب کی اہمیت جان لے وہ
احساس کاینات کا اور اپنے رشتے کا کرے وفا کرے
زندگی جو اس نے بخشی ہے حق اسکا ادا کرے

Comments are closed.