کرونائی فضا اور امام زمانہ عج

(سید شاہ زمان شمسی)

اپنی لا ابالی زندگی سے تنگ آ چکا ہوں
تیرے سامنے سر جھکایا ہے
احساس ندامت سے آنسو ٹپک رہے ہیں
دل مغموم ہے، چہرہ اداس ہے، ہمارے درد_ سر
غم و الم کی کیفیت اور
بے حیثیت اداسی کو قبول کرو
دنیا مادہ پرست ہے، اعمال و افعال مادی ہیں اس بے کیف
اور بر بریت سے بھر پور دنیا میں سانس لینا دشوار ہے
اے مولا عج پردہء غیبت سے دیکھ تجھ سے تو کچھ بھی
پوشیدہ نہیں ہے
وبائے عام ہے اور خیر و شر کی کشمکش میں مبتلا ہیں
مسائل کی چکی میں پسے ہوئے غریب ہیں
بھوک و ننگ کا بازار گرم ہے اور
دنیا پریشانی سے دو چار ہے
غم کی آمیزش بھر پور ہے اور ہر طرف عالمگیر مایوسی نے شعور_ عقلی کو متاثر کر رکھا ہے
اے امام_ زماں عج روح کی پاکیزگی اور کشادگی سے گزاریں شفاف اور منزہ روح سے ہمارے قصہء درد کو
اور آہوں کی تاثیر کو محسوس کیجیے
یا مولا عج اس صابر خاموشی اور تاریکی کے شاندار وصل تک پرانے لہو کی تقدیس کو میرے اندر منتقل کر
اے مقدس نورانی ہالے!
میرے خیال کی اصلاح کر بھٹکی ہوئی روح کے اندر سکون و طمانیت کا مستقل احساس پیدا کر
دنیا کو اس موذی مرض سے نجات دلا
لا چاروں اور غریبوں کے بچوں کی آہ و بکا ،گریہء پیہم
سسکنے اور تڑپنے کی آواز سن
چھالوں سے بھرے اور پیاس کے زخم سے جلے ہوئے ہونٹوں کے احساس کو سن
اے امر_ خدا ابتلاء و مصیبت کی گھڑی اور وبائے عام کو ہم سے ٹال دے

Comments are closed.