ہر سُو شور ہے کورونا ، کورونا

(منیبہ افتخار)
کورونا
یہ کرموں کا کیا ہے، سب بھرو نا

جب ظلمت کی انتہا بشر نے کی
اب قدرت کی للکار بھی سنو ناں

کشمیر میں بر بر یت کا راج ہے
ان مظلوموں کو پہلے رِہا کرو نا

تکلیف جو بنی ہے مظلوم کا مقدر
مشکل کے یہ چند دِن تم بھی سہو ناں

مودی ہے موذی، آزاد کر اِن کو
ہمت مسلمہ، جرأت سے کہوناں

گر ہمتِ مسلمہ دفن کر دی تم نے
وبا کی آگ میں بھسم ہو کر جلو ناں

ایمان کی طاقت سے قدم تو اٹھائو
خدا بھی ساتھ اپنے، مسلمانوں ڈرو ناں

کہارب نے جو چپ سادھ لی ظلمت پہ
تا قیامت اس وبا سے اب سب مرو ناں

ہر سو شور ہے کورونا، کورونا
یہ کرموں کا کیا ہے، سب بھرو ناں

——–
احتیاطی تدابیر
جو ضرورت ہو احتیاط سے گھر سے نکلنا
ہر کسی سے چھ فُٹ کا فاصلہ برتنا

منہ ڈھانپ لینا، پردہ نہیں یہ جاناں
ماسک کو فیشن سمجھ کر کرنا

حسیں ہاتھوں پہ دستانے بھی پہن لو
باہر کسی جگہ کو touchنہ کرنا

کوئی چھینکے تو فوراـ ًدوڑ لگا دو
کسیsocial workکے چکروں میں نہ پڑنا

اَب تو شاید ملنے کا یہ سٹائل رہے
تم آن لائن مجھ سے contactرکھنا

یونہی لڑیں گے اب عاشق pandemicسے
خوف میں کہیں عشق کو minusنہ کرنا

ہم ہِیر رانجھا ہی ہیں، بس فرق ہے اتنا
کل کے کیدوکو آج کورونا سمجھنا

مِلیں گے لاک ڈائون کے ختم ہوتے ہی
کورونا سے ڈر نا نہیں ہمت سے ہے لڑنا

—————
Quarantine Routine
میں کیا کھا رہی ہوں، کھلا رہی ہوں
یہ سب کچھ فیس بک پر لگا رہی ہوں

دنیا کو تو بتائوں کہ لاک ڈائون میں
کیا کیا گن ہیں دِکھا رہی ہوں

یہ وائر س کا ڈر ہے، ورنہ گھر نہ بیٹھوں
مَیں یہ بھی اپنے اسٹیٹس پر بتا رہی ہوں

شروع میں تو خوش تھی کہ چھٹیاں ہوئی ہیں
حکومت کے اِس فیصلے پہ اب پچھتا رہی ہوں

گھر سے نکلنا تو عادت تھی اپنی
وائرس کی بھی قید بہلا رہی ہوں

بڑا ظالم ہے یہ وائرس، اسی ڈر سے
میں گھر کے سب نوکر بھی بھگا رہی ہوں

نوکر کو چھٹی دینا بہت مہنگا پڑا
کاموں سے تھک ہار کر یہ بتا رہی ہوں

بہت ہو گیا اب یہ وائرس چلا جائے
میں گھر کے کاموں سے تنگ آ گئی ہوں

کم بخت موسم بھی اتنا سہانا ہو ا ہے
اور مَیں کچن میں چائے بنا رہی ہوں

کیا یہ زندگی یونہی چلتی رہے گی
بس کچھ دِن کہہ کر دِل بہلا رہی ہوں

نمازیں بھی پانچ پوری ہیں میری
میں روٹھا ہوا رب بھی منا رہی ہوں
یہ سب کچھ فیسبک پر لگا رہی ہوں

——–
کشمیر کی بددعا
سب کہتے ہیں اِک وبا سی آئی ہے
رب ناراض ہے شاید، سزا سی آئی ہے

اِک کونے میں انساں کی پکار تھی کچھ
اس سِمت سے اِک التجا سی آئی ہے

کہ قید ہیں بے قصور ظلمت کے ساتھ
اَے دنیا والو! کچھ حیا سی آئی ہے

خدا تو مظلوموں کا رب ہے فقط
عالم پہ قہر برپا ، صدا سی آئی ہے

اب بھی وقت ہے سِمت موڑ لو اپنی
کشمیر کی سسکیوں سے بد دعا سی آئی ہے

سب کہتے ہیں اِک وبا سی آئی ہے
رب ناراض ہے شاید، سزا سی آئی ہے

Comments are closed.