سنا ہے جنگ کے آثار ہیں ہر سُو

(رضوان علی)

ایک نظم کرونا کے نام
******************
سنا ہے جنگ کے آثار ہیں ہر سُو
اور ہمیں اپنی پڑی ہے
وبا ایسی چلی ہے
گھور سناٹا ہے گلیوں میں
ہزاروں لوگ مرتے جا رہے ہیں
شہر سب
وحشت زدہ ہیں
اور ہمیں اپنی پڑی ہے

فضا گہری اداسی سے
مکدر ہو چکی ہے
ہوا ایسی چلی ہے
سانس لینا بھی یہاں دشوار لگتا ہے
وفورِ جذب میں آکر کسی کو
چھو بھی لیں تو ہاتھ
گھنٹوں دھونا پڑتا ہے

فلک پر
چیل، کوے، گدھ، و چمگاڈر۔
بڑی کثرت سے دِکھتے ہیں
اور ۔۔ہمیں اپنی پڑی ہے

ہمں یہ فکر ہے کہ ہم
تمھیں کیسے ملیں گے؟
ابھی بھی تم سے ملنا
کتنا مشکل ہے
مگر پھر عالمی منڈی میں جب …
پٹرول کی قیمت چڑھےگی۔
جہازوں کے ٹکٹ بھی مہنگے ہوں گے
بارڈروں کا سخت پہرہ بڑھتا جائے گا
خدا جانے کہ ویزا بھی ملے گا
یا محض حسرت !
تو کیسے دن گزاریں گے
تو کیونکر سال بیتے گا

کہاں سے موتیے کے پھول آئیں گے
دکانیں بند جب ہوں گی
تو سڑکوں پر پڑا سناٹا
بولے گا
نہ چڑیاں چہچہائیں گی
نہ مینا گیت گائے گی

سنا ہے جنگ کے آثار ہیں ہر سُو
اور ہمیں اپنی پڑی ہے !!

Comments are closed.