سہما سہما ہے انسان سہما سہما ہے انسان

(سَیَّد مُنَّورعلی وفاؔ)

میرے اللہ میرے مالک اے میرے رحمٰن
سہما سہما ہے انسان سہما سہما ہے انسان

ٹوٹ گئے ہیں سب سے رشتے
موت کی جانب ہیں سب رستے
ہاتھ ملانا گلے لگانا، خود کا ہے نقصان
سہما سہما ہے انسان سہما سہما ہے انسان

مشکل کی سب پہ یہ گھڑی ہے
ہراِک جانب موت کھڑی ہے
خالی سڑکیں،خالی رستے ہرجأ ہے ویران
سہما سہما ہے انسان سہما سہما ہے انسان

مسجد، مندر یا گرجا ہے
موت کا خوف تو ہر ایک جأ ہے
گھر میں سب ہی کریں عبادت ہوا ہے یہ اعلان
سہما سہما ہے انسان سہما سہما ہے انسان

اُلٹے سیدھے گورکھ دھندے
سب ہی پڑے ہیں اب تو مندے
گھر سے آذانیں سُن سُن کر ہےمشکل میں شیطان
سہما سہما ہے انسان سہما سہما ہے انسان

چاٹ، سموسے حلوہ پوری
یہ نہ ہو تو زیست ادھُوری
کہاں سے لاٸیں، کیسے کھاٸیں بند ہیں سب پکوان
سہما سہما ہے انسان سہما سہما ہے انسان

موت کا رقص ہے ہر سو جاری
ایک کورونا سب پہ بھاری
لاک ڈان میں پڑے ہوۓ ہیں چین تا عربستان
سہما سہما ہے انسان سہما سہما ہے انسان

امدادی دولت ہے اب تو
مِل کے بٹے گی یہ بھی سب کو
رہے سلامت قاٸم وداٸم وفاؔ یہ پاکستان
سہما سہما ہے انسان سہما سہما ہے انسان

Comments are closed.