ممکن نا ممکن

(ادریس بابر)

ع // ممکن نا ممکن
1.

سڑکوں پر بے ساختہ نارَش کو
جی آیاں نوں کہا جا سکتا ہے
یکسر نظر انداز کیا جا سکتا ہے
بازار کی خود ساختہ تنہائی کو

بعض چیزوں کی کم دستیابی پر
خون یا صبر کے گھونٹ بھرنے پڑ جایں
شکرانے کے نوافل ادا کرنے کی نوبت آے
بیشتر لوگوں کی کم دستیابی پر

باغ سے تمہاری ممکنہ غیر حاضری کے دوران
کھلنے والے پھولوں کو معاف کرنا ممکن نہیں!

2.
عشرہ // الحمد للناس

اندیکھی زنجیر میں جکڑے
انہونی کے خوف میں پکڑے
ڈر کے مارے ہنستے رہے ہم
اس سے کم کیا کر سکتے تھے
جی سکتے ہیں، مر سکتے تھے
اپنے اندر بستے رہے ہم
ہر کوئی، اپنی جگہ نہتا
ثابت ہوا! انسان، کَپَتّا
خود سے مقابلہ کر سکتا ہے
ڈوبتے ڈوبتے تَر سکتا ہے

3.

عشرہ // نادمی نامہ

پیدا فلک زمیں پر کیا دور کر رہا ہے
شر شور کر رہا ہے، زر زور کر رہا ہے
اک: ظلم سہہ رہا ہے، دو: جور کر رہا ہے
جس تس کے طور دیکھیں بے طور کر رہا ہے
کچھ کر رہا ہے اور نہ کچھ اور کر رہا ہے
بیکار کیوں ?!؟ بروبر یہ غور کر رہا ہے
سگرٹ سے پیدا سگرٹ ون مور کر رہا ہے
دریا دلوں کے اندر اک شور کر رہا ہے
خود، بور ہو رہا ہے، اور بور کر رہا ہے
جو ہم کرے ہیں سارا لاہور کر رہا ہے

Comments are closed.