گھر میں بیٹھے رہو

(سید شاہ زمان شمسی)

یہ کرونائی خطرات ٹل جائیں گے
تم پریشان کیوں ہو پریشاں نہ ہو
اس وبا سے نہ گھبراو اے دوستو
وہ جو شافئ ِمطلق ہے اس سے کہو
بس دعائیں کرو

گھر میں بیٹھے رہو گھر میں بیٹھے رہو

سخت بے فیض ساعت کے لمحات ہیں
خامشی کا ہے طوفان پھیلا ہوا
زندگی اس خموشی سے بیزار ہے
دل شکستہ نہیں
دل میں امید اچھے دنوں کی رکھو

گھر میں بیٹھے رہو گھر میں بیٹھے رہو

یہ وبائیں سبھی اسکی تخلیق ہیں
اپنی تخلیق کا وہ ہی رزاق ہے
تم پریشاں نہ ہو
علم کے نور سے دل منور کرو
جس سے لا علم ہو اس سے واقف رہو
گرمئی شوق میں یوں ہی جلتے رہو

گھر میں بیٹھے رہو گھر میں بیٹھے رہو

میر کی شاعری کے اثر میں رہو
کچھ کتابیں پڑھو شعر و نغمات سے دل کو آرام دو
تم سخنور بنو اور سخن سے محبت کرو
شعر سنتے رہو شعر کہتے رہو

یہ کرونائی خطرات ٹل جائیں گے

گھر میں بیٹھے رہو گھر میں بیٹھے رہو

Comments are closed.