کرونائی خوف

(سید شاہ زمان شمسی)

بڑی دیر سے کالی رات کے اندر کھڑکی سے باہر چپ چاپ راستے پر آنکھ لگائے بیٹھا ہوں
گھپ اندھیرے میں تنہائی کی دلکش آواز پر مست ہوں۔ وبائی دلدل کے اندر بجھے ہوئے شعلوں کی موسیقی کا غم سن رہا ہوں
نشاط آور کیفیت پیدا ہو رہی ہے
شوکت اور افتخار کے دن کیا ہوئے؟
میں خوش خوش اپنی غربت کی غمگین کہانی سنائے جا رہا ہوں
اپنی پلکوں سے گزری ہوئی میٹھی راتوں کو یاد کر رہا ہوں
اپنے کانوں کی لووءں کو پرانی صداوں کی خاطر جلا دے رہا ہوں
اس خوف زدہ مضطرب فضا کی وسعتوں کے اندر اپنی موروثی صحت کی پاکیزگی کو کھویا نہیں
اور لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے وحشت کرتے دکھائی دے رہے ہیں
اس کرونائی خوف میں روزانہ تدبیروں کا جسم ادراک کی مایوسی میں گھل مل رہا ہے
نفسیاتی الجھنوں کا شکار ذہن واہموں کی تنگ وادیاں طے کرنے کے بعد
صاحب_ فن کی فکر کو اپنے اندر جا گزیں کر رہا ہے
تنہائی کے اس رنگ کو گیت کے پیالے میں انڈیل کر
خالص مسرت کے پھول اگانے کا لطف ایک شاعر اور ادیب ہی اٹھا سکتا ہے
تم بھی اس وحشت اور خوف کی فضا کو ختم کرو
اور اچھوتے مضامین کی تلاش میں کسی تخلیق کار کے قلب کی گہرائی میں گھر کر لو

Comments are closed.