یہ حکم ہے کہ دھوتے رہیں ہاتھ بار بار

(شجاعتؔ رجوی)
کرونا
یہ حکم ہے کہ دھوتے رہیں ہاتھ بار بار
سو حکمِ شہر یار سے ہم ہاتھ دھو چکے

ہر سمت اضطرار ہے مرنے کا خوف ہے
آرام سے قرار سے ہم ہاتھ دھو چکے

بیٹھے بٹھائے ہم پہ مصیبت یہ آ پڑی
خوشیوں کی آبشار سے ہم ہاتھ دھو چکے

یہ گھر ہمارے گھر ہیں قرنطینہ بن گئے
اپنوں کے لاڈ پیار سے ہم ہاتھ دھو چکے

تنہائی کو بھی آئیسولیشن کہا گیا
اردو کے اعتبار سے ہم ہاتھ دھو چکے

باہر نہیں گئے تو کرونا سے بچ گئے
پر اپنے کاروبار سے ہم ہاتھ دھو چکے

مزدور ہیں سو فاقہ کشی تک پہنچ گئے
یعنی کہ روزگار سے ہم ہاتھ دھو چکے

راشن جو دیتے ہیں وہ ہی بھاشن بھی دیتے ہیں
راشن لیا ، وقار سے ہم ہاتھ دھو چکے

اب ہم پہ اجتماعی عبادت بھی بند ہے
اب دل کے اختیار سے ہم ہاتھ دھو چکے

مسجد میں آنا جانا بھی موقوف ہو چکا
مسجد کی رہ گزار سے ہم ہاتھ دھو چکے

پھولوں سے لوگ ملنے نہیں آتے اب ہمیں
یوں موسمِ بہار سے ہم ہاتھ دھو چکے

ملنے ملانے کی ہمیں امید اب نہیں
ہاں لطفِ انتظار سے ہم ہاتھ دھو چکے

ظالم سماجی فاصلے نے مار ڈالا ہے
اب سب سے پیارے یار سے ہم ہاتھ دھو چکے

Comments are closed.