اسیر_رہائی

(بتول مسرت)

اسیر_رہائی
میں کسی خواب آسیب زدہ میں
یا آگہی کے طوفاں میں گھری ہوں
کسی خیال وملال میں گم
خوفِ درد و رنج و الم لیے
گھر کے در و دیوار میں مقید
کوئی درد اپنے دروں ٹٹولتی ہوں
پھر سوچ کا دھارا اچانک بدلتا ہے
ابن آدم جو خود کو افضل سمجھتا ہے
فلک بوس کوہ ساروں کو روندتا
فضاوں کو چھوتا ہوا
سمندروں کی لہروں پہ اٹھلائے پھرتا ہے
ایسا کیا ہوا کہ آج غمزدہ ہے
کسی راکھ میں آگ لگی ہے
دھواں دھواں شہروں میں
پیلے پیلے چہرے ہیں
نہ چارہ گر ہے کوئی
نہ درد کی دوا کوئی
کس آسیب کا سایہ ہے کہ
ہر بستی کے مکیں دبکے ہیں گھروں میں
ماوں نے سینے سے لگا رکھے ہیں بچے
یہ کیسا وقت ابتلا آ پڑا ہے
انساں انساں سے اتنا خوف زدہ ہے
کہ سایہ سایے سے بھاگتا ہے
حوصلہ قدموں میں آن پڑا ہے
آج جبکہ وہ وبا کے نرغے میں آ گھرا ہے
بڑھ گئے فاصلے معاشرے کے
کھو گئی تہذیب سلام تک کی

Comments are closed.