ٹل جائے گی تقدیر سے آفاتِ کرونا

(انیس ندیم)

ٹل جائے گی تقدیر سے آفاتِ کرونا
بدلیں گے دعاؤں سے ہی حالاتِ کرونا

رحمت سے خداوند کی مایوس نہ ہو تم
وا اس کا ہے در آؤ مناجات کرونا

بے چین ، فکر مند ، پریشاں ہو اگر تم
سجدوں میں بیاں سارے یہ حالات کرونا

ویران ہے معبد تو کلیسا بھی ہے خالی
دکھلائے گا کیا کیا یہ کرشمات کرونا

مجبورہیں لاچار ہیں سب مشرق ومغرب
چہروں سے ہویدا ہیں علاماتِ کرونا

ہر شخص حجابوں میں نقابوں میں ہےملبوس
دیکھی ہیں عجب ہم نے کراماتِ کرونا

ہر شہر قرنطینہ و سُنسان پڑا ہے
ہر ملک پہ نازل ہے یہ سوغاتِ کرونا

آئےگی بہارایسے کہ پھر پھول کھلیں گے
ہلکان نہ رو رو کے یُوں دن رات کرونا

مشکل ہو پہاڑوں سی تو ٹل جائے دعا سے
اخلاص سے کچھ صدقہ و خیرات کرونا

غفلت کو کرو دُور کرو راضی خدا کو
الفت کی محبت کی شروعات کرونا

Comments are closed.