گھر میں بیٹھے رہو

(سید شاہ زمان شمسی)

کرونائی خطرہ یہ ٹل جائے گا
کیوں پریشان ہوتے ہو شام و سحر
ہوائے زہر سے نہ گھبراو اے دوستو
روشنی کے دیے تم جلاتے رہو

گھر میں بیٹھے رہو گھر میں بیٹھے رہو

بے فیض ساعت کے لمحات ہیں
خامشی کا ہے طوفان پھیلا ہوا
شان سے جو پرے ہے پریشان ہے
اس لیے تم کتابیں پڑھو اور پریشاں نہ ہو

گھر میں بیٹھے رہو گھر میں بیٹھے رہو

یہ تخلیق بھی شان ہے
جو اس سے پرے ہے پریشان ہے
شاعری کے اثر میں رہو
شعر کہتے رہو شعر سنتے رہو

گھر میں بیٹھے رہو گھر میں بیٹھے رہو

علم کے نور سے دل منور کرو
خود سے باتیں کرو شعر پختہ کہو
تم سخنور بنو اور سخن سے محبت کرو
گرمئ شوق سے یوں ہی جلتے رہو

کرونائی خطرہ یہ ٹل جائے گا
گھر میں بیٹھے رہو گھر میں بیٹھے رہو

Comments are closed.