کرونائی جنگ

(شوکت کاٹھیا)

اس پُرخطر محاذ سے لوٹیں گے ایک دن
ہم زندگی کی جنگ بھی جیتیں گے ایک دن

مٹ جائے گی وبا یہ کرونا کی آخرش
بادل کرم کے ٹوٹ کے برسیں گے ایک دن

پھر سے جمیں گی دیکھنا یاروں کی محفلیں
اس طبّی اعتکاف سے نکلیں گے ایک دن

شاید یہ امتحان ہے، انساں کی ذات کا
سو امتحانِ ذات سے نکلیں گے ایک دن

دن پھر بہارِ زیست کے آئیں گے لوٹ کر
ہم یہ خوشی کا وقت بھی دیکھیں گے ایک دن

سر سبز ہو گی مزرعِ علم و ہنر کبھی
بچے ہمارے تختیاں لکھیں گے ایک دن

پھر سے سجیں گے کھیل کے میدان دوستو!
جھنڈے اٹھا کے قافلے نکلیں گے ایک دن

اب لکھ رہے ہیں درد و الم، ہم اگر تو کیا
جذب و خوشی کے گیت بھی گائیں گے ایک دن

تھا کون پہلی صف میں نَہّتا کھڑا ہوا
جذبوں کی داستان بھی لکھیں گے ایک دن

سرکش وبا نے کس لیے عَالَم کو آ لِیا
گرہیں یہ اِس حجاب کی کھولیں گے ایک دن

لاچار کر دیا ہے، کرونا نے کس لیے؟
اس بے بسی کے بارے میں سوچیں گے ایک دن

شوکت خدا کے فضل و کرم کے سبب سے ہی
ہم بھی عذابِ جان سے نکلیں گے ایک دن

Comments are closed.