میرے مولا مری دنیا کو سلامت رکھنا

(طارق چغتائی)

میرے مولا مری دنیا کو سلامت رکھنا
اس مصیبت میں مکینوں پہ عنایت رکھنا
زندگی تلخ ہوئی جاتی ہے؛تیرے ہوتے
خواب کی مثل ہوئی زیست کی حسرت رکھنا
ہم سدا تیری رضا پر رہیں راضی مولا
ہم کو آتا نہیں ہونٹوں پہ شکایت رکھنا
تو سمجھتا ہے سبھی دل کی چھپی باتیں بھی
تیرے دربار میں کیا غم کی وضاحت رکھنا
بس یہی ایک گزارش ہے یہی ایک دعا
وقت آخر ہمیں پابند, شریعت رکھنا
تیرے بندے ہیں اگرچہ ہیں گنہگار بہت
عزتوں والے ہماری سدا عزت رکھنا
ٹال دے گا وہ مصیبت کی گھڑی کو طارق
اس کا شیوہ ہے ہر اک حال میں رحمت رکھنا

Comments are closed.