مرنے کی تمنا ہے نہ جینے کی آس ہے

(سَیَّد مُنَّورعلی وفا)

مرنے کی تمنا ہے نہ جینے کی آس ہے
کعبہ مدینہ دیکھ کر یہ دل اُداس ہے

ہم سے خطائیں ایسی کچھ ہوگئیں ضرور
اتنی بڑی سزا ہے جتنا بڑا قصور
ناراض ہے خدا بہت یہ ہی قیاس ہے
کعبہ مدینہ دیکھ کر یہ دل اُداس ہے

سوچا نہ تھا میرے خدا دیکھوں گا میں جلال
سورج، ہوا، زمین یہ چمکتا ہوا ہلال
تو چھین لے نہ ہم سے جو تیری اساس ہے
کعبہ مدینہ دیکھ کر یہ دل اُداس ہے

افلاس و فقر کی ہر اک تصویر بن گیا
ایسی ہوا چلی کہ گلستاں اُجڑ گیا
ہر اک ہجوم غم سے ہوا بدحواس ہے
کعبہ مدینہ دیکھ کر یہ دل اُداس ہے

تو ہے رحیم بندوں کا حاجت روا ہے تو
ہر فقر و شاہ کا میرے مولا خدا ہے تو
میں جانتا ہوں سب کا تجھ کو احساس ہے
کعبہ مدینہ دیکھ کر یہ دل اُداس ہے

چولا منافقت کا ہےآدمی نے پہنا
لالچ و بے حیائی کا اب اسکی کیا ہے کہنا
ظاہر ڈھنپا ہوا مگر بے لباس ہے
کعبہ مدینہ دیکھ کر یہ دل اُداس ہے

انسان جانتا نہیں کیا تیری ذات کو
تجھ سے جُدا کیوں رکھا ہے اپنی حیات کو
تو ہی تو ہے جو سب کے آس پاس ہے
کعبہ مدینہ دیکھ کر یہ دل اُداس ہے

اسطرح قوم کا وفاؔ نقصان جو ہوگا
تن پر کسی کے جامۂ انسان نہ ہوگا
مولا وہ وقت آۓ نہ یہ التماس ہے
کعبہ مدینہ دیکھ کر یہ دل اُداس ہے

Comments are closed.