وبا کے دنوں میں اک اُداس غزل

(عمانوئیل نذیر مانی)

جب سے کئے کرونا نے سپنے مرے اُداس
کُوچے مرے اُداس ہیں رستے مرے اُداس

دھرتا نہیں ہے کان کوئی اپنا خیر خواہ
آہیں مری اُداس ہیں نوحے مرے اُداس

ہر شخص میرے شہر کا لگتا ہے اب اُداس
لہجہ مرا اُداس ہے قِصّے مرے اُداس

کیسا سفر پڑا ہے یہ میری حیات میں
آنکھیں مری اُداس ہیں لمحے مرے اُداس

کِس نے چرائی ہے مرے چہرے کی روشنی
کِس نے کئے ہیں اب یہاں نغمے مرے اُداس

سوچیں مری اُداس ہیں چہرہ مرا اُداس
دیوار و در اُداس ہیں رستے مرے اُداس

جب سے گیا ہے چھوڑ کے مانؔی وہ دِلرُبا
چاہت مری اُداس ہے جذبے مرے اداس

Comments are closed.