اجل تیرتی پھر رہی ہے ہوا میں

(عارف پرویز نقیب)

اجل تیرتی پھر رہی ہے ہوا میں
کہ اُڑتا ہوا زہر ہے اِس فضا میں
زمیں گُنگ ہے آسماں دم بخود ہے
اثر ہے دوا میں نہ کوٸی دعا میں

کہاں چُو کی دھرتی کا اب دبدبہ ہے
کہ بند ہو گیا جیسے ہر راستہ ہے
ہے لاوزے کی روح بھی پشیماں پشیماں
یہ خطہِ عظمت بھی روتا ہوا ہے

کولمبس کی دھرتی بھی نوحہ کناں ہے
جسے زعم تھا کہ ہر اک شے ہہاں ہے
تھا دعویٰ جسے کہ ہے طاقت اُسی کی
کرے کیا وہ خود بھی تو از حد حیراں ہے

یہ مغرب کا مغرب بھی زیر ِ وبا ہے
نہ جرمن بچا ہے نہ اٹلی بچا ہے
فسردہ فسردہ سی ہے روحِ نطشے
کہ گوٸٹے کا لاشہ کہیں رو رہا ہے

اشوکا کا بھارت لرز سا گیا ہے
ہر ایک انساں بی بے بس پڑا ۔ہے
ہے گریہ کناں اب بھگت سنگھ کہیں پہ
کہ ہر گاندھی ہر نہرو سہما ہوا ہے

مری بھی تو دھرتی یہ زیر و زبر ہے
کہ ہو جاٸے کب کیا یہ کس کو خبر ہے
ہے اب رُوح قاٸدِ فسردہ فسردہ
کہ ہر چہرے پہ چھایا خوف و خطر ہے

ہے تُو سب کا رازق تُو سب کا خدا ہے
تِرے سامنے پھیلا دستِ دعا ہے
مِرے مولا آفت یہ اب ٹال دے تُو
تُو ہی مارتا ہے تُو ہی بخشتا ہے

یہ کیا ہو رہا ہے کہ اب کیا ہے ہونا
تِرے دستِ قدرت میں ہے یہ کرونا

Comments are closed.