شکلِ کرونا بن کے جو آیا وبال ہے

(محمد عمیر لبریز)

شکلِ کرونا بن کے جو آیا وبال ہے
خالق کا ہے یہ غصہ اسی کا جلال ہے
کیوں تنگ وہ بلا وجہ کرتا کسی کو بھی
ہم کو کرایا یاد ہماراجو حال ہے
آیانہیں وہ سامنے پر دنیا رک گئی
یہ شکل وائرس کی معاصی کا جال ہے
اس کی گرفت میں جو مسلماں بھی آئے ہیں
رب کی طرف سے ان کے عمل کا مآل ہے
کیوں بھول بیٹھے ہو سبھی اللہ رسول کو
اس بے دوا مرض کا یہ ہم سے سوال ہے
دیکھو بیاہ سنتوں سے ہو رہے ہیں سب
پردے کا مرضی والی کو بھی اب خیال ہے
لبریزؔ کرتا ہے دعا یارب معاف کر
اعمال پر بڑا ہمیں اپنے ملال ہے

Comments are closed.