شبِ وحشت میں دل خاموش تھا اور شہر سُونے

(محمد منذر رضا)

شبِ وحشت میں دل خاموش تھا اور شہر سُونے
بڑا بے چین رکھا ہم کو شوقِ گفتگو نے
دوبارہ آئنہ تکنے کی ہمت کر نہ پائے
نہ جانے ایسا کیا پوچھا تھا عکسِ روبرو نے
نہیں پایا کوئی تجھ سا تو گھر میں چپکے بیٹھے
کیا ہے بسکہ تنہا ہم کو تیری آرزو نے
نظر میں پھر گیا دل کا خزاں دیدہ چمن زار
ستم ڈھایا عجب سیرِ بہارِ رنگ و بو نے
بتاؤں کیا کہ باقی رات ہم نے کیسے کاٹی
پکارا تھا عجب ڈھب سے درونِ خواب تو نے
صبا منزل رسیدوں کو مرا پیغام دیجو
کہ راہیں سونی کر دیں منزلوں کی جستجو نے
میں اپنی شاخ سے ٹوٹا تو مٹی سے بھی بچھڑا
پھرایا در بدر بے حد ہوائے تند خو نے
خلاؤں کے سوا کیا شے انہیں ملتی ہے منذر
جو جاتے ہیں زمیں کو چھوڑ کر مہتاب چھونے

Comments are closed.