کرونا، کرو،نا

(خرم خرام صدیقی)

ہومنصف تو تم عہد شکنی کرو،نا
ہو افسر تو رشوت ستانی کرو،نا

اگر مسندِعدل دی ہے خدا نے
ٖغریبوں کے حق کے منافی کرو،نا

کیا ہے اگر ظلم خلقت پہ تم نے
تو فی الفور اس کی تلافی کرونا!

نظر سے ملے گر نظرتو غنیمت
کوئی اورخواہش اضافی کرو،نا

کرونا کبھی جھوٹ کی پاسداری
ہر اک بات پر بد گمانی کرو،نا

کرونا کبھی طفل سے بدسلوکی
بڑوں سے کبھی بدتمیزی کرو،نا

اگر تم ہو مالک مکا ں اتفاقا ً
مکینوںسے پھر بدسلوکی کرو،نا

کرو کام اپنا عبادت سمجھ کر
کبھی جان کر اس میںسستی کرونا

یہ سب مال وثروت عطا ہے خداکی
غریبو ں میں یو ںخود نمائی کرونا

نہ نکلو کبھی گھر سے تم بے ضرورت
بلا عذر تم بے حجابی کرو ،نا

خرامؔ ایک ادنیٰ گذارش سبھی سے
محبت کرو،عیب جوئی کرو،نا

Comments are closed.