دنیا میں ھر اک فرد تھا مشغول و منہمک

(رشیدالظفر)

دنیا میں ھر اک فرد تھا مشغول و منہمک
اپنے ھی راستوں پہ تھے سارے رواں دواں
اپنے لیے بھی وقت نہیں تھا کسی کے پاس
پھر یوں ھی سمت غیب سے ایسی ھوا چلی
آئی ھر ایک شہر، محلے میں اک وبا
پھیلی تو پھر لپیٹ میں سب ملک آگئے
دنیا کو سمجھ آ گئی رب کریم کی
وہ قادر مطلق بھی ھے اور بے نیاز بھی
شاید زمین زادوں سے اب کہ ناراض بھی
دیکھو کہ اس کی فوج نے کیا حال کر دیا
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
ھر فرد اپنے آپ تک محدود ھو گیا
ھر سمت ھر اک راستہ مسدود ھوگیا
ھر کاروبار زندگی بے سود ھوگیا
محفل کی رونقیں بھی سبھی ماند پڑ گئیں
شہروں کی چہل پہل میں بھی فرق آگیا
دنیا کی سرحدوں پہ بھی جھگڑے نہیں رھے
ھر اک سے آگے بڑھنے کے دکھڑے نہیں رھے
اک پیج پر ھیں کرۂ ارضی کے حکمران
لیکن مجھے یقیں ھے وبا لوٹ جائے گی
گلشن میں پھر سے باد صبا لوٹ آئے گی
دل سے رشید الظفر کے نکلی ھے دل کی بات
ھوگی ضرور پھر سے حسیں ساری کائنات
سوچوں کو اپنی اور بھی کچھ رائز کیجے
لوگوں کے لیے بڑا دل کا سائز کیجیے
سب ھی کو دل کی مسندوں پہ فائز کیجیے
مت ایک دوسرے کو کریٹیسائز کیجیے
دل کی کدورتوں کو مینیمائز کیجیے
ھاتھوں کے ساتھ دل بھی سینیٹائز کیجیے

Comments are closed.