دریائے فکر و فن میں روانی تمام شد

(اعجاز احمد)

دریائے فکر و فن میں روانی تمام شد
یعنی خیال و حرف کے معنی تمام شد

رکھنا ہے اب تو، یار، پرندوں سے فاصلہ
پیڑوں سے دوستی بھی پرانی تمام شد

صبحِ طرب بھی آخری سانسوں پہ آ گئی
خوشبو بھری یہ شام سہانی تمام شد

آنسو نہیں چھلکتے کسی بات پر مرے
شاید فراتِ چشم کا پانی تمام شد

سوچیں، تخیلات سبھی خواب ہو گئے
خوابوں میں ڈھلتی رات کی رانی تمام شد

ہو جائے گی زبان پہ آنے سے پیشتر
اعجاز، جسم و جاں کی کہانی تمام شد

Comments are closed.