صبحِ طلوعِ زندگی

(ناصر عدیم)

شاخِ زماں پر
فصلِ گُل
لکھنے لگی ہے مُردنی
بے برگ سے لمحات کا دستِ تہی
یوں ہی رہے گا بے ثمر؟
ماتم کناں ہیں طائرانِ خوش نوا
اب تو صبا کا لمس بھی مسموم ہے
ہر ایک در
ہر ایک گھر
زیرِ حصارِ مرگ ہے
صبحِ بقا کی روشنی
شامِ ابد کی چاندنی
گہنا گئی
ہر اک نگر سنسان ہے
ہر اک گلی میں ناچتی ہیں وحشتیں
جو ملگجی شامیں کبھی آباد تھیں
تیرے وجودِ ناز سے
ویران ہیں
دالان میں
وہ کرسیوں کا دائروی اسلوب مردہ پڑ گیا
وہ ہم سخن ، وہ ہم نوا، وہ قہقہے،وہ محفلیں
نذرِ کروناہو گئیں
اب تو اُسی دالان کی تنہائیوں میں
چائے کا کڑوا کسیلا کپ لیے
بیٹھا ہُوا ہوں اس طرح
انجان سے اک منطقے میں
اجنبی جیسے کوئی بھولا ہوا ہو راستہ
جیسے کسی حرفِ دعا کے
سائے سے محروم ہوں
چارہ گروں کے چارہ گر !
تیرا کرم جو ساتھ ہو
یہ اک ذرا سا وائرس
میری بقائے زیست کو
معدوم کر سکتا نہیں
جتنی بھی ہوں تنہائیاں
اجڑے نگر ،خاموشیاں
زیرِ حصارِ مرگ بھی
چھوڑی نہیں میں نے زمامِ آرزو
بے دست و پا بھی چل پڑوں گا دیکھنا
صبحِ بقا کو ڈھونڈنے
گو راستے مسدود ہیں تو کیا ہوا
زادِ سفر مفقود ہے تو غم نہیں
مجھ سے گریزاں منزلیں ہوں
یہ کبھی ممکن نہیں
میں تو ازل کا سر پھرا
میں ہی ترا آشفتہ سر
میری تب و تابِ جواں
میری تگ و تازِ رواں
کے سامنے
ہر اک وبا ، ہر اک بلا
سیماب پا
مانا مرض ہے لا دوا
مانا کٹھن ہے معرکہ
کہتا ہے پھر بھی حوصلہ
کھُلنے کو ہے بابِ شفاء
شامِ فنا بھی بن گئی
میرے لیے
صبحِ طلوعِ زندگی

Comments are closed.