چلیں جہان میں کیسی ہوائیں مہلک ہیں

(ریاض احمد قادری)

غزل
چلیں جہان میں کیسی ہوائیں مہلک ہیں
حیات کیسے ملے جب فضائیں مہلک ہیں
گھروں میں گھس رہو باہر نہ نکلو اک پل بھی
پکارو ہم کو نہ ہرگز صدائیں مہلک ہیں
ہر ایک قریہ میں لاشیں بچھائی ہیں کس نے
چمٹ گئی ہیں جو ہم کو بلائیں مہلک ہیں
یہ کیسی فال نکالی گئی ہمارے لئے
کسی سے ہاتھ نہ ہرگز ملائیں ، مہلک ہیں
حیات مرگ بنی اور مرگ ٹھہری حیات
گلے سے لگنے کی ساری ادائیں مہلک ہیں
نہ شرق و غرب کا کوئی بھی امتیاز رہا
جہان بھر کی سبھی انتہائیں مہلک ہیں
وہ چہرہ ڈھانپ کے مل لے یہی غنیمت ہے
جو رُخ کھلے گا تو اس کی ضیائیں مہلک ہیں
اسے لگیں گی یہ اڑ کر یقین ہے یہ ہمیں
وبا کی رُت میں ہماری دعائیں مہلک ہیں
وہ اپنے ساتھ عزیزوں کو لے کے ڈوبے گا
ریاضؔ کرتا ہے جو وہ خطائیں مہلک ہیں
—————

غزل
لکھا جو بخت میں اپنے ہے بس وہ ہونا ہے
ہماری زیست کا قاتل نیا کرونا ہے
جسے بھی ملنا اسے فاصلے سے ملنا ہے
ہے چہرہ ڈھانپنا اور ہاتھ اپنے دھونا ہے
پڑائو گھر میں ضروری ہے زندگی کے لئے
کبھی نہ اب ہمیں باہر روانہ ہونا ہے
مزاحمت کے لئے جاگنا ضروری نہیں
بچائو کے لئے اس بار ہم کو سونا ہے
دکھائی آنکھ سے دیتا رہے وہ ، کافی ہے
بقا کے واسطے اب اس سے دور ہونا ہے
خوشی ضروری ہے گر تم کو مت ملو ہم سے
بچو، جو اشک نہیں آنکھ میں پرونا ہے
یہ کیسا راز بتایا ہے مردِ دانا نے
حیات موت کے ہاتھوں میں اک کھلونا ہے
اسے بچانا اگر ہے تو اس سے دور رہو
قریب آکے اسے اپنے آپ کھونا ہے
جو احتیاط کرو گے تو بچ ہی جائو گے
وگرنہ بوجھ یہی زندگی میں ڈھونا ہے
گر احتیاط کریں گے تو پھر بچیں گے ریاضؔ
وہی ہے کاٹنا ہم نے یہاں جو بونا ہے
—————

غزل
یہ کیسی رُت ہے جب آب و ہوا سے خوف آتا ہے
بہاروں میں بھی گلشن کی فضا سے خوف آتا ہے
نگلتی جاتی ہے انسانیت کو جو قضا بن کر
بچا مولا ہمیں قاتل وبا سے خوف آتا ہے
یہ کیسا آگیا موسم سبھی سے دور رہنے کا
ہمیں ملنے ملانے کی ادا سے خوف آتا ہے
بھلا تنہائیاں ڈستی ہیں کیوں اب سانپ بن بن کر
ہر اک تریاق ، مرہم اور دوا سے خوف آتا ہے
یہ کیسے خیمۂ تنہائی میں رکھے گئے ہیں ہم
جہاں بیمار کو ہر پل شفا سے خوف آتا ہے
کبھی آواز اپنی زندگانی کی علامت تھی
یہاں خاموش رہ رہ کر صدا سے خوف آتا ہے
جہاں پر دور رہنا قُرب کا مصداق بن جائے
وہاں ہر ابتدا اور انتہا سے خوف آتا ہے
کرونا کی وبا نے اس طرح مجھ کو ڈرایا ہے
تری صحبت سے ، تیرے نقشِ پا سے خوف آتا ہے
تضاداتِ زمانہ کی وبا یہ کیسی پھیلی ہے
ترے حرفِ تسلی سے ، دعا سے خوف آتا ہے
اذیت سہہ چکے ہوں اس قدر ہم زندگانی میں
ہمیں چھوٹی سے بھی چھوٹی سزا سے خوف آتا ہے
ریاض ؔاحمد غذا کا قحط بھی سونے نہیں دیتا
جو کھانے کو میسر ہو ، غذا سے خوف آتا ہے
—————
غزل

مچی ہوئی ہے ہر اک جا پہ ہی دہائی مری
تمہارا قید میں ہونا ، ہوا رہائی مری
عجیب طور محبت نے اب کے اپنایا
تمہارا درد ہی جب بن گیا دوائی مری
قریب آنے میں ہم دونوں کی ہلاکت ہے
بقائے باہمی ٹھہری ہے اب جدائی مری
وبا کی رُت نے ہے فطرت کے ساتھ جوڑ دیا
یہ لمسِ آبِ رواں سمجھو کیمیائی مری
رُخِ حسیں کی زیارت خیال و خواب ہوئی
تمہارا چہرہ چھپانا ہے آشنائی مری
وصال ہجر میں ڈھل جائے گر تو بات بنے
بنی ہوئی ہے یہ صحبت ہی جگ ہنسائی مری
ریاضؔ مجھ کو یقیں ہے نجات پائوں گا
خدا بھی میرا ہے اور اس کی سب خدائی مری

Comments are closed.