نادیدہ اک بلا ہے مری چشم ِ حال میں

(شہاب صفدر)

نادیدہ اک بلا ہے مری چشم ِ حال میں
میں بن گیا مریض مرض کے خیال میں

ہونی بچھائے بیٹھی ہے ہر سمت ایک جال
سانسوں کا دھیان، آئیں نہ ہونی کے جال میں

پوشیدہ سب غنیم بھی اپنی نظر میں ہوں
مضمر ہے راز فتح کا ایک اس کمال میں

صد احتیاط،،، ،،،،،،،،ہے دل و ایماں کا امتحاں
پھرتا ہے سامری کوئی شہر ِ جمال میں

کرنا نہیں ہے صرف کف ِ غیر سے گریز
ظاہر. نشان ِ ہجر ہے عارض کے خال میں

مانا ہمیشہ رہنی نہیں ابتلا کی رت
غفلت تو مستزاد ہے دور ِ وبال میں

تلوار استعارہ ہے صولت کا گر شہاب
اظہار حفظ ِ جاں کا زرہ میں ہے ڈھا ل میں

Comments are closed.