کعبہ اداس ہے

(ڈاکٹر رمضان طاہر)
کعبہ اداس ہے
شور ِ وبا سے معبد و عابد اداس ہیں
پیاسے ہیں رند حضرت ِ زاہداداس ہیں مسجدمیں بھی وہ پہلےسی حاضری نہیں
سجدےتڑپ رہےہیں کہ ساجد اداس ہیں
یا رب یہ کیا سکوت ِ زمانہ کا پہر ہے
سیارگان و ثابت و جامد اداس ہیں
طاہر نمود ِ ذات کی ساعت نہیں رہی
مشہود کیا شہود و شواہد اداس ہیں

Comments are closed.