میرے مولا کرم کر کرم کر کرم

(صفی الرحمٰن صفی)

میرے مولا کرم کر کرم کر کرم

تُو ہے رحمان اور تیرے بندےہیں ہم

۔

تُو نہیں ہے تو کوئی ہمارا نہیں

یہ بھنور وہ ہے جس کا کنارا نہیں

اس سے پہلے کہ اپنا نکل جائے دم

میرے مولا کرم کر کرم کر کرم

۔

ہم گناہ گار ہیں ہم سیاہ کار ہیں

سب خطاؤں پہ لیکن شرمسار ہیں

معاف کر دے تُو رکھ لے ہمارا بھرم

میرے مولا کرم کر کرم کر کرم

۔

تیرے در سے گئے تو ہوئے در بدر

ہم نے رستہ بدی کا نہ چھوڑا مگر

اپنی جانوں پہ ہم نے کیا ہے ستم

میرے مولا کرم کر کرم کر کرم

۔

جو پلٹ آئے تیری طرف دوڑتا

تُو کبھی اس کو خالی نہیں موڑتا

ہم پشیمان ہیں غم سے آنکھیں ہیں نم

میرے مولا کرم کر کرم کر کرم

۔

منتظر ہیں تیرے “کُن”کے ربِ جہاں

تُو بتا اور جائیں تو جائیں کہاں؟

ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں عرب وعجم

میرے مولا کرم کر کرم کر کرم

Comments are closed.